ابنا: "علی اکبر جوانفکر" نے روسی ٹی وی "رشیا ٹو ڈے" کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پابندیوں کو ایک موقع کی طور پر لیتے ہیں کیونکہ ہم ماضی میں بھی اس طرح کے بحرانوں سے گذر چکے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام تمام عالمی قوانین کے مطابق ہے اور ایران عالمی برادری کا ایک ممبر ہوتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہے اور چاہتا ہے کہ دوسرے بھی جوہری توانائی کے حوالے سے ایران کے حق کو تسلیم کریں.
ایران کے صدر کے مشیر نے مزید کہا کہ مغربی ممالک کو پابندیوں کے نتائج کی طرف توجہ دینی چاہیئے، کیونکہ آجکل وہ شدید اقتصادی بحران کا شکار ہیں اور انھیں ایران سے تیل خریدنے کی ضرورت ہے.
علی اکبر جوانفکر نے کہا ہمارے خریدار ہمارا انتظار کر رہے ہیں اور ہم آسانی سے ان کا متبادل تلاش کر سکتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ایران ماضی کی نسبت تیل پر کم انحصار کرتا ہے اور اب ہم نے تیل صاف کرنے والے کارخانوں میں تیل سے بنی ہوئی مصنوعات کی پیداوار شروع کر دی ہے اور انھیں عالمی منڈی میں فروخت کیا جارہا ہے.
جوانفکر نے کہا کہ تحفظ ہر قوم کا قدرتی حق ہے اور ہم سب لوگوں کے لیے تحفظ چاہتے ہیں اگر یہ ممالک ایرانیوں کو دہمکائیں گے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہیں گے اور اس حوالے سے کسی قسم کے دفاعی ایکشن کو مسترد نہیں کیا جاسکتا.
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم اپنے قومی اقتصادی مفادات کے لیے آبنائے ہرمز استعمال نہیں کر سکتے تو پھر دوسرے کیوں اسے استعمال کریں، "ہم آبنائے ہرمز کو تحفظ فراہم کرنے میں ایک بڑے حصے دار ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ راستہ محفوظ اور پر امن رہے".
ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر کے مشیر نے کہا کہ بات چیت ایک منطقی ماحول میں ہونی چائیے.
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری مزاکرات کے اختتام پر عالمی قوانین کے تحت ایسا لایحہ عمل سامنے آنا چائیے جو موجودہ صورتحال کو تبدیل کرے کیونکہ ایران ہر حال میں بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے.
علی اکبر جوانفکر نے کہا کہ مغربی ممالک یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ ہم ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیوں دباؤ کا راستہ اختیار کرتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ گروپ 1+5 میں شامل کچھ ممالک جیسا کہ روس اس مسلے کو زیادہ منطقی طور پر حقیقت پسندی سے دیکھے.
انہوں نے مزید کہا کہ روس ہمارا مؤقف بہتر انداز میں سمجھتا ہے.
جوانفکر نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ روس گروپ 1+5 میں شامل ممالک کے نظریے سے اتفاق کرتا ہے اور روس کے کچھ ماہرین کا یہ خیال ہے کہ چین بھی اس حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے.
ایران پر اسراییل کے ممکنہ حملے کی افواہوں کے حوالے سے جوانفکر نے کہا کہ اگر ایسا دیوانہ اقدام اٹھایا گیا تو امریکہ اور برطانیہ اس کے براہ راست ذمہ دار ہوں گے.
انہوں نے ایرانی قوم کو ایک تجربہ کار قوم قرار دیا جو آٹھ سال جنگ کا مقابلہ کر چکی یے.
علی اکبر جوانفکر نے کہا ہم سب کے لیے تحفظ چاہتے ہیں کیونکہ کسی بھی واقعے کے نتیجے میں طاقت کا توازن خراب ہوجائے گا اور سب کے لیے نقصان کا باعث بنے گا.
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ رہتے ہوئے دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ روس دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں پر توجہ دے رہا ہے خاص طور سے شام کے مسلے پر.
.......
/169